وہ دن گئے کہ چھپ کے سر بام آئیں گے
کلام: وزیر آغا
وہ دن گئے کہ چھپ کے سر بام آئیں گےآنا ہوا تو اب وہ سر عام آئیں گے
سوچا نہ تھا کہ ابر سیہ پوش سے کبھیکوندے تیرے بدن کے مرے نام آئیں گے
اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)
مہمان شاعر: وزیر آغا
وہ دن گئے کہ چھپ کے سر بام آئیں گےآنا ہوا تو اب وہ سر عام آئیں گے
سوچا نہ تھا کہ ابر سیہ پوش سے کبھیکوندے تیرے بدن کے مرے نام آئیں گے
عمر کی اس ناؤ کا چلنا بھی کیا رکنا بھی کیاکرمک شب ہوں مرا جلنا بھی کیا بجھنا بھی کیا
اک نظر اس چشم تر کا میری جانب دیکھناآبشار نور کا پھر خاک پر گرنا بھی کیا