10 اشعار

اور آہستہ کیجیے باتیں

Aur aahista kijiye baatein

اور آہستہ کیجیے باتیں

«اور آہستہ کیجیے باتیں» ظفرگورکھپوری کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)» میں 21 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

اور آہستہ کیجیے باتیںدھڑکنیں کوئی سُن رہا ہوگا

لفظ گِرنے نہ پائے ہونٹوں سےوقت کے ہاتھ اُن کو چُن لیں گے

کان رکھتے ہیں یہ در و دیوارراز کی ساری بات سُن لیں گے

اور آہستہ کیجیے باتیںدھڑکنیں کوئی سُن رہا ہوگا

ایسے بولو کہ دِل کا افسانہدِل سُنے اور نِگاہ دُہرائے

اپنے چاروں طرف کی یہ دُنیاسانس کا شور بھی نہ سُن پائے

اور آہستہ کیجیے باتیںدھڑکنیں کوئی سُن رہا ہوگا

آئیے بند کر لیں دروازےرات سپنے چُرا نہ لے جائے

کوئی جھونکا ہَوا کا آوارہدِل کی باتوں کو اُڑا نہ لے جائے

اور آہستہ کیجیے باتیںدھڑکنیں کوئی سُن رہا ہوگا

— ظفرگورکھپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں