اور آہستہ کیجیے باتیں
کلام: ظفرگورکھپوری
اور آہستہ کیجیے باتیںدھڑکنیں کوئی سُن رہا ہوگا
لفظ گِرنے نہ پائے ہونٹوں سےوقت کے ہاتھ اُن کو چُن لیں گے
ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)
مہمان شاعر: ظفرگورکھپوری
اور آہستہ کیجیے باتیںدھڑکنیں کوئی سُن رہا ہوگا
لفظ گِرنے نہ پائے ہونٹوں سےوقت کے ہاتھ اُن کو چُن لیں گے
فصل گل ہے سجا ہے مے خانہچل مرے دل کھلا ہے مے خانہ
شام کے وقت بیٹھنے کے لیےسب سے اچھی جگہ ہے مے خانہ