5 اشعار

دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مرے کمرے میں

Din ko bhi itna andhera hai mere kamre mein

دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مرے کمرے میں

«دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مرے کمرے میں» ظفرگورکھپوری کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)» میں 21 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مرے کمرے میںسایہ آتے ہوئے ڈرتا ہے مرے کمرے میں

غم تھکا ہارا مسافر ہے چلا جائے گاکچھ دنوں کے لیے ٹھہرا ہے مرے کمرے میں

صبح تک دیکھنا افسانہ بنا ڈالے گاتجھ کو اک شخص نے دیکھا ہے مرے کمرے میں

در بہ در دن کو بھٹکتا ہے تصور میراہاں مگر رات کو رہتا ہے مرے کمرے میں

چور بیٹھا ہے کہاں سوچ رہا ہوں میں ظفرؔکیا کوئی اور بھی کمرہ ہے مرے کمرے میں

— ظفرگورکھپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں