9 اشعار

ابھی کسی کے نہ میرے کہے سے گزرے گا

Abhi kisi ke na mere kahe se guzre ga

ابھی کسی کے نہ میرے کہے سے گزرے گا

«ابھی کسی کے نہ میرے کہے سے گزرے گا» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے سجاد رضا نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

ابھی کسی کے نہ میرے کہے سے گزرے گاوہ خود ہی ایک دن اس دائرے سے گزرے گا

بھری رہے ابھی آنکھوں میں اس کے نام کی نیندوہ خواب ہے تو یونہی دیکھنے سے گزرے گا

جو اپنے آپ گزرتا ہے کوچۂ دل سےمجھے گماں تھا مرے مشورے سے گزرے گا

قریب آنے کی تمہید ایک یہ بھی رہیوہ پہلے پہلے ذرا فاصلے سے گزرے گا

قصوروار نہیں پھر بھی چھپتا پھرتا ہوںوہ میرا چور ہے اور سامنے سے گزرے گا

چھپی ہو شاید اسی میں سلامتی دل کییہ رفتہ رفتہ اگر ٹوٹنے سے گزرے گا

ہماری سادہ دلی تھی جو ہم سمجھتے رہےکہ عکس ہے تو اسی آئینے سے گزرے گا

سمجھ ہمیں بھی ہے اتنی کہ اس کا عہد ستمگزارنا ہے تو اب حوصلے سے گزرے گا

گلی گلی مرے ذرے بکھر گئے تھے ظفرؔخبر نہ تھی کہ وہ کس راستے سے گزرے گا

— ظفراقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں