7 اشعار

دل کا یہ دشت عرصۂ محشر لگا مجھے

Dil ka ye dasht arsa-e-mahshar laga mujhe

دل کا یہ دشت عرصۂ محشر لگا مجھے

«دل کا یہ دشت عرصۂ محشر لگا مجھے» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے نین سکھ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

دل کا یہ دشت عرصۂ محشر لگا مجھےمیں کیا بلا ہوں رات بڑا ڈر لگا مجھے

آگے بھی عشق میں ہوئیں رسوائیاں مگراب کے وفا کا زخم جبیں پر لگا مجھے

اے دل وہ مہرباں ہے یوں ہی بد گماں نہ ہومارا تھا اس نے غیر کو پتھر لگا مجھے

ہر سو ترے وجود کی خوشبو تھی خیمہ زنوہ دن کہ اپنا گھر بھی ترا گھر لگا مجھے

ہنس کر نہ ٹال جا کہ یہ امید کی کرنوہ تیر ہے کہ سینے کے اندر لگا مجھے

تاریکیٔ حیات کا اندازہ کر کہ آجداغ شکست مہر منور لگا مجھے

سانچے تو تھے غزل کے سوا بھی مگر ظفرؔکیا جانے کیوں یہ ظرف حسین تر لگا مجھے

— ظفراقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں