9 اشعار

یکسو بھی لگ رہا ہوں بکھرنے کے باوجود

Yaksoo bhi lag raha huun bikharnay ke bawajood

یکسو بھی لگ رہا ہوں بکھرنے کے باوجود

«یکسو بھی لگ رہا ہوں بکھرنے کے باوجود» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

یکسو بھی لگ رہا ہوں بکھرنے کے باوجودپوری طرح مرا نہیں مرنے کے باوجود

اک دھوپ سی تنی ہوئی بادل کے آر پاراک پیاس ہے رکی ہوئی جھرنے کے باوجود

اس کو بھی یاد کرنے کی فرصت نہ تھی مجھےمصروف تھا میں کچھ بھی نہ کرنے کے باوجود

پہلا بھی دوسرا ہی کنارہ ہو جس طرححالت وہی ہے پار اترنے کے باوجود

اپنی طرف ہی رخ تھا وہاں واردات کاالزام اس کے نام پہ دھرنے کے باوجود

حیراں ہوں مجھ میں اتنی یہ ہمت کہاں سے آئیکر ہی گیا ہوں کام جو ڈرنے کے باوجود

ہونا پڑا نہ ہوتے ہوئے بھی مجھے یہاںکچھ یاد رہ گیا ہوں بسرنے کے باوجود

جیسا بھی یہ سفر ہو ذرا غور کیجئےکیسا رواں دواں ہوں ٹھہرنے کے باوجود

نکلا نہیں ہے کوئی نتیجہ یہاں ظفرؔکرنے کے باوجود نہ بھرنے کے باوجود

— ظفراقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں