9 اشعار

جو بندۂ خدا تھا خدا ہونے والا ہے

Jo banda khuda tha khuda hone wala hai

جو بندۂ خدا تھا خدا ہونے والا ہے

«جو بندۂ خدا تھا خدا ہونے والا ہے» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

جو بندۂ خدا تھا خدا ہونے والا ہےکیا کچھ ابھی تو جلوہ نما ہونے والا ہے

یہ بھی درست ہے کہ پیمبر نہیں ہوں میںہے یہ بھی سچ کہ میرا کہا ہونے والا ہے

کچھ اشک خوں بچا کے بھی رکھیے کہ شہر میںجو ہو چکا ہے اس سے سوا ہونے والا ہے

وہ وقت ہے کہ خلق پہ ہر ظلم ناروااللہ کا نام لے کے روا ہونے والا ہے

اک خوف ہے کہ ہونے ہی والا ہے جا گزیںاک خواب ہے کہ سب سے جدا ہونے والا ہے

رنگ ہوا میں ہے عجب اسرار سا کوئیکوئی بھی جانتا نہیں کیا ہونے والا ہے

خوش تھا سیاہ خانۂ دل میں بہت لہواس قید سے مگر یہ رہا ہونے والا ہے

یہ تیر آخری ہے بس اس کی کمان میںاور وہ بھی دیکھ لینا خطا ہونے والا ہے

اک لہر ہے کہ مجھ میں اچھلنے کو ہے ظفرؔاک لفظ ہے کہ مجھ سے ادا ہونے والا ہے

— ظفراقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں