6 اشعار

دل وہ بِگڑا ہوا بچہ ہے کہ جو مانگے گ

Dil wo bigda hua bachcha hai ki jo maangega

دل وہ بِگڑا ہوا بچہ ہے کہ جو مانگے گ

«دل وہ بِگڑا ہوا بچہ ہے کہ جو مانگے گ» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

دِل وہ بگڑاہوا بچہ ہے کہ جو مانگے گاگر اُسی وقت نہ دیں گے تو مچل جائے گا

رات پھرآئے گی، پھر ذہن کے دروازے پرکوئی مہندی میں رنگے ہاتھ سے دستک دے گا

دھوپ ہے ، سایہ نہیں آنکھ کے صحرا میں کہیںدید کا قافلہ آیا تو کہاں ٹھہرے گا

وہ تو خوشبو ہے ، اُسے چوم سکو گے کیسےمر بھی جاوتو یہ ارماں نہ کبھی نکلےگا

دیکھ کر شمعِ تمنا کی ضیاء آنکھوں میںمُسکرائے گا، مگر بات نہیں مانے گا

آہٹ آتے ہی نگاہوں کو جُھکا لو ، کہ اُسےدیکھ لو گے تو لپٹنے کو بھی جی چاہے گا​

— ظفراقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں