6 اشعار

فغاں بھی چھوڑ دی فریاد بھی نہیں کریں گے

Fughaan bhi chhoR di faryaad bhi nahin karein ge

فغاں بھی چھوڑ دی فریاد بھی نہیں کریں گے

«فغاں بھی چھوڑ دی فریاد بھی نہیں کریں گے» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے حماد ابراہیم نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

فغاں بھی چھوڑ دی فریاد بھی نہیں کریں گےجو وہ کہے تو اسے یاد بھی نہیں کریں گے

کھلیں گے آپ کی آواز کے گلاب کبھیاگرچہ آپ کچھ ارشاد بھی نہیں کریں گے

جو تیرے ہوتے ہوئے کر سکے نہ ڈھنگ سے ہموہ کاروبار ترے بعد بھی نہیں کریں گے

خوشی جو دے نہ سکے کوئی سر پھرے دل کوتو بے سبب اسے ناشاد بھی نہیں کریں گے

جئیں گے دیکھنے کو تیری خامشی کی حدیںہم اپنے آپ کو برباد بھی نہیں کریں گے

ظفرؔ کہ بلبل گستاخ بھی ہے گلشن کااسے حوالۂ صیاد بھی نہیں کریں گے

— ظفراقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں