9 اشعار

خوش بہت پھرتے ہیں وہ گھر میں تماشا کر کے

Khush bohat phirte hain woh ghar mein tamasha kar ke

خوش بہت پھرتے ہیں وہ گھر میں تماشا کر کے

«خوش بہت پھرتے ہیں وہ گھر میں تماشا کر کے» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے آدرش نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

خوش بہت پھرتے ہیں وہ گھر میں تماشا کر کےکام نکلا تو ہے ان کا مجھے رسوا کر کے

روک رکھنا تھا ابھی اور یہ آواز کا رسبیچ لینا تھا یہ سودا ذرا مہنگا کر کے

اس طرف کام ہمارا تو نہیں ہے کوئیآ نکلتے ہیں کسی شام تمہارا کر کے

مٹ گئی ہے کوئی مڑتی ہوئی سی موج ہواچھپ گیا ہے کوئی تارا سا اشارا کر کے

فرق اتنا نہ سہی عشق و ہوس میں لیکنمیں تو مر جاؤں ترا رنگ بھی میلا کر کے

صاف و شفاف تھی پانی کی طرح نیت دلدیکھنے والوں نے دیکھا اسے گدلا کر کے

شوق سے کیجیے اور دیر نہ فرمائیے گاکچھ اگر آپ کو مل جائے گا ایسا کر کے

یوں بھی سجتی ہے بدن پر یہ محبت کیا کیاکبھی پہنوں اسی ملبوس کو الٹا کر کے

مجھ سے چھڑوائے مرے سارے اصول اس نے ظفرؔکتنا چالاک تھا مارا مجھے تنہا کر کے

— ظفراقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں