5 اشعار

خوشی ملی تو یہ عالم تھا بدحواسی کا

Khushi mili toh yeh aalam tha badhawasi ka

خوشی ملی تو یہ عالم تھا بدحواسی کا

«خوشی ملی تو یہ عالم تھا بدحواسی کا» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

خوشی ملی تو یہ عالم تھا بدحواسی کاکہ دھیان ہی نہ رہا غم کی بے لباسی کا

چمک اٹھے ہیں جو دل کے کلس یہاں سے ابھیگزر ہوا ہے خیالوں کی دیو داسی کا

گزر نہ جا یوں ہی رخ پھیر کر سلام تو لےہمیں تو دیر سے دعوی ہے روشناسی کا

خدا کو مان کہ تجھ لب کے چومنے کے سواکوئی علاج نہیں آج کی اداسی کا

گرے پڑے ہوئے پتوں میں شہر ڈھونڈتا ہےعجیب طور ہے اس جنگلوں کے باسی کا

— ظفراقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں