8 اشعار

جیسے تیسے رہ جاتا ہے

Jaise taise reh jaata hai

جیسے تیسے رہ جاتا ہے

«جیسے تیسے رہ جاتا ہے» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

جیسے تیسے رہ جاتا ہےسب کچھ ایسے رہ جاتا ہے

لاش ابھر آتی ہے اوپرپانی نیچے رہ جاتا ہے

میں ہی نکل جاتا ہوں آگےقاری پیچھے رہ جاتا ہے

کام جو وقت پہ کیا نہ جائےرہتے رہتے رہ جاتا ہے

رہنے پر آ جائے تو وہکسی بہانے رہ جاتا ہے

سوچے سمجھے وہ نہ رہے توبھولے بھٹکے رہ جاتا ہے

تیز بہت چلنے والا بھیآدھے رستے رہ جاتا ہے

بات وہ کیا ہے جسے ظفرؔ توکہتے کہتے رہ جاتا ہے

— ظفراقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں