جیسے تیسے رہ جاتا ہے
جیسے تیسے رہ جاتا ہےسب کچھ ایسے رہ جاتا ہے
لاش ابھر آتی ہے اوپرپانی نیچے رہ جاتا ہے
مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)
مہمان شاعر: ظفراقبال
جیسے تیسے رہ جاتا ہےسب کچھ ایسے رہ جاتا ہے
لاش ابھر آتی ہے اوپرپانی نیچے رہ جاتا ہے
ہر طرف پھیلتی خوشبو کی حفاظت کرناغیر ممکن ہے ابھی تجھ سے محبت کرنا
وصل ہو گا کہ نہیں چھوڑ دیا قسمت پرعشق میں بھی ہمیں آیا نہیں محنت کرنا
کبھی اول نظر آنا کبھی آخر ہونااور وقفوں سے مرا غائب و حاضر ہونا
میں کسی اور زمانے کے لیے ہوں شایداس زمانے میں ہے مشکل مرا ظاہر ہونا
یکسو بھی لگ رہا ہوں بکھرنے کے باوجودپوری طرح مرا نہیں مرنے کے باوجود
اک دھوپ سی تنی ہوئی بادل کے آر پاراک پیاس ہے رکی ہوئی جھرنے کے باوجود
بس ایک بار کسی نے گلے لگایا تھاپھر اس کے بعد نہ میں تھا نہ میرا سایا تھا
گلی میں لوگ بھی تھے میرے اس کے دشمن لوگوہ سب پہ ہنستا ہوا میرے دل میں آیا تھا
وہ ایک طرح سے اقرار کرنے آیا تھاجو اتنی دور سے انکار کرنے آیا تھا
خوشی جو خواب میں بھی میری دسترس سے تھی دورمجھے اسی کا سزاوار کرنے آیا تھا