9 اشعار

گم ہوتے گئے آپ ہی اِمکان ہمارے

Gum hote gaye aap hi imkaan hamare

گم ہوتے گئے آپ ہی اِمکان ہمارے

«گم ہوتے گئے آپ ہی اِمکان ہمارے» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

گم ہوتے گئے آپ ہی اِمکان ہمارےمشکل ہوئے جو کام تھے آسان ہمارے

بکھرے ہو کہاں اے خس و خاشاک ِ تمناغائب ہو کدھر اے سر و سامان ہمارے

دریاؤں سے اب سوکھتا ہی جائے گا پانیاور پھیلتے جائیں گے بیابان ہمارے

ہو گا نہیں موجود تواضح کے لیے کچھرک جائیں گے اب آپ ہی مہمان ہمارے

بازار ہیں اب اُن کی جگہ رونقِ‌ ہر شہریوں ختم ہوئے خود ہی گلستان ہمارے

بندے بھی درآمد کیے جائیں گے کہ سارےشیطان ہوئے جاتے ہیں اِنسان ہمارے

باہر سے ہی مضبوط نظر آتے ہیں لیکناندر سے یہی جسم ہیں بےجان ہمارے

معصوم ہیں‌ اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اب تکدشمن ہیں اِن احوال سے اَنجان ہمارے

چوروں کی ظفر کوئی ضرورت نہیں باقیمامور ہیں اب خود ہی نگہبان ہمارے

— ظفراقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں