9 اشعار

یہاں سب سے الگ سب سے جدا ہونا تھا مجھ کو

Yahan sab se alag sab se juda hona tha mujh ko

یہاں سب سے الگ سب سے جدا ہونا تھا مجھ کو

«یہاں سب سے الگ سب سے جدا ہونا تھا مجھ کو» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 24 سیکنڈ ہے۔

یہاں سب سے الگ سب سے جدا ہونا تھا مجھ کومگر کیا ہو گیا ہوں اور کیا ہونا تھا مجھ کو

ابھی اک لہر تھی جس کو گزرنا تھا سروں سےابھی اک لفظ تھا میں اور ادا ہونا تھا مجھ کو

پھر اس کو ڈھونڈنے میں عمر ساری بیت جاتیکوئی اپنی ہی گم گشتہ صدا ہونا تھا مجھ کو

پسند آیا کسی کو میرا آندھی بن کے اٹھناکسی کی رائے میں باد صبا ہونا تھا مجھ کو

وہاں سے بھی گزر آیا ہوں خاموشی میں اب کےجہاں اک شور کی صورت بپا ہونا تھا مجھ کو

در و دیوار سے اتنی محبت کس کے لیے تھیاگر اس قید خانے سے رہا ہونا تھا مجھ کو

میں اپنی راکھ سے بے شک دوبارہ سر اٹھاتامگر اک بار تو جل کر فنا ہونا تھا مجھ کو

میں اندر سے کہیں تبدیل ہونا چاہتا تھاپرانی کینچلی میں ہی نیا ہونا تھا مجھ کو

ظفرؔ میں ہو گیا کچھ اور ورنہ اصل میں توبرا ہونا تھا مجھ کو یا بھلا ہونا تھا مجھ کو

— ظفراقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں