9 اشعار

کبھی اول نظر آنا کبھی آخر ہونا

Kabhi awwal nazar aana kabhi akhir hona

کبھی اول نظر آنا کبھی آخر ہونا

«کبھی اول نظر آنا کبھی آخر ہونا» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

کبھی اول نظر آنا کبھی آخر ہونااور وقفوں سے مرا غائب و حاضر ہونا

میں کسی اور زمانے کے لیے ہوں شایداس زمانے میں ہے مشکل مرا ظاہر ہونا

میں نہ ہونے پہ ہی خوش تھا مگر ایسے ہوا پھرمجھ کو ناچار پڑا آپ کی خاطر ہونا

دور ہو جاؤں بھی اس باغ بدن سے لیکنکہیں ممکن ہی نہیں ایسے مناظر ہونا

واقعی تم کو دکھائی ہی نہیں دیتا ہوںیا ضرورت ہے تمہاری مرا منکر ہونا

راستہ آپ بنانا ہی کوئی سہل نہیںپھر اسی راستے کا آپ مسافر ہونا

وہ مقامات مقدس وہ ترے گنبد و قوساور مرا ایسے نشانات کا زائر ہونا

بادلوں اور ہواؤں میں اڑا پھرتا میںکاش ہوتا مری تقدیر میں طائر ہونا

کام نکلا ہے کچھ اتنا ہی یہ پیچیدہ ظفرؔجتنا آساں نظر آیا مجھے شاعر ہونا

— ظفراقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں