7 اشعار

آرزو کا کوئی پندار بدل کر آئے

Aarzoo ka koi pindaar badal kar aaye

آرزو کا کوئی پندار بدل کر آئے

«آرزو کا کوئی پندار بدل کر آئے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

آرزو کا کوئی پندار بدل کر آئےمیری خاطر کوئی اک بار بدل کر آئے

شہر والوں کو تماشہ ہے تو پھر یونہی سہیکون حسرت سرِ بازار بدل کر آئے

وہ بھی تو نت نئے کردار کے گرویدہ تھےاس لیے ہم کئی کردار بدل کر آئے

میں یہ سب کچھ اسے اک بار میں کیسے سونپوںاس سے کہہ دو کہ کئی بار بدل کر آئے

ہم تو آنکھوں سے ہی پہچان لیا کرتے ہیںآپ چہرہ یونہی بے کار بدل کر آئے

کب تلک یوں ہی انہیں روز پکاروں یارواب تو ان کا کوئی انکار بدل کر آئے

میرے کپڑوں سے ہے الجھن تو سنو ہم جاکریوں گئے اور مری سرکار، بدل کر آئے

— زین شکیل