سماعتوں میں فقط ایک نام جاری ہے
سماعتوں میں فقط ایک نام جاری ہےزباں خموش ہے لیکن کلام جاری ہے
بہت سجی ہوئی گلیوں پہ اتنی حیرت کیوںہمارا قتل ہے اور اہتمام جاری ہے
خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)
مہمان شاعر: زین شکیل
سماعتوں میں فقط ایک نام جاری ہےزباں خموش ہے لیکن کلام جاری ہے
بہت سجی ہوئی گلیوں پہ اتنی حیرت کیوںہمارا قتل ہے اور اہتمام جاری ہے
ہمیں دکھ رہا تو یہی رہا ہمیں لب نچوڑنے پڑ گئےجو تری صِفَت کے خلاف تھے، وہی لفظ بولنے پڑ گئے
میں کہوں حیات ہے مختصر، وہ مری وفات کے منتظرانہیں پھر یقین نہیں ہوا، انہیں عہد توڑنے پڑ گئے
کلام کر ! حسین شخص !دیکھ ! آسماں کے کان بھی لٹک گئے !
سماعتیں تری صدائے سبز کی تلاش میں بھٹک رہی ہیں دیر سے !کلام کر ! اے مہ جبین شخص !
تُو کہاں تھا؟کہ جب میں بُریدہ مقدر لیے تیرے در پر صدائیں لگاتا رہا۔
تیرا سائل سوالی رہا،تیرے سائل کا دستِ شکستہ ہمیشہ سے خالی رہا۔