5 اشعار

میں بھی دن رات سرابوں میں پڑا رہتا ہوں

Main bhi din raat sarabon mein pada rehta hoon

میں بھی دن رات سرابوں میں پڑا رہتا ہوں

«میں بھی دن رات سرابوں میں پڑا رہتا ہوں» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 33 سیکنڈ ہے۔

میں بھی دن رات سرابوں میں پڑا رہتا ہوںآنکھ کھلنے پہ بھی خوابوں میں پڑا رہتا ہوں

میں نے وعدے تو ترے گن کے نہیں رکھے تھےجانے پھر کیسے حسابوں میں پڑا رہتا ہوں

تجھ سے پہلے بھی عذابوں میں پڑا رہتا تھاتو نہیں ہے تو عذابوں میں پڑا رہتا ہوں

میری محفل میں تو بس دکھ ہی پڑے رہتے ہیںاتنا اچھا ہوں خرابوں میں پڑا رہتا ہوں

جب وہ ملنے کی کوئی بات نہیں کرتا ناںمیں بھی چپ چاپ حجابوں میں پڑا رہتا ہوں

— زین شکیل