10 اشعار

تمہی نہیں ہو تو زندگانی میں کچھ نہیں ہے

Tumhi nahin ho to zindagani mein kuch nahin hai

تمہی نہیں ہو تو زندگانی میں کچھ نہیں ہے

«تمہی نہیں ہو تو زندگانی میں کچھ نہیں ہے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے مہرزادہ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)» میں 21 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

تمہی نہیں ہو تو زندگانی میں کچھ نہیں ہے !سناؤں کس کو ؟ کہ اس کہانی میں کچھ نہیں ہے !

بڑی خوشی سے میں رائیگانی میں جی رہا ہوں !یہ جان کر بھی کہ رائیگانی میں کچھ نہیں ہے !

سنو یہ آنسو کہیں تمہیں بے سکوں نہ کر دے !یہ صرف پانی ہے اور پانی میں کچھ نہیں ہے !

ضعیف سوچیں ہی ذہن و دل پر جمی پڑی ہیں !سوائے اس کے بھری جوانی میں کچھ نہیں ہے !

تری نشانی میں یاد تیری بچی تھی دل میں !مگر یہ سچ ہے کہ اب نشانی میں کچھ نہیں ہے !

کوئی تو رہتا ہے رنج و غم سے پرے وہاں بھی !میں کیسے مانوں کہ لامکانی میں کچھ نہیں ہے !

وہ مہرباں ہے زمانے بھر کے لیے ! تو ہو گا !مرے لیے اُس کی مہربانی میں کچھ نہیں ہے !

سوائے وقت اس نئی محبت میں کیا نیا ہے ؟پرانی جیسی ہے ! اور پرانی میں کچھ نہیں ہے !

یہ جاودانی بھی ہے لباسِ فنا میں پنہاں !فنا میں سب کچھ ہے ! جاودانی میں کچھ نہیں ہے !

رہیں گے اب زین آخری سانس تک اُسی کے !کوئی بھلے ہی کہے نمانی میں کچھ نہیں ہے !

— زین شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں