16 اشعار

ساحرہ (اقتباس)

Sahira (Iqtibas)

ساحرہ (اقتباس)

«ساحرہ (اقتباس)» زین شکیل کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)» میں 21 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 33 سیکنڈ ہے۔

ساحرہ!بھوک کتنی بھیانک ہوا کرتی ہے

میری معصوم اے صندلیں، باؤلی ساحرہ!ضبط کی کوئی حد بھی اگر ہو تو شاید

اسے موت کہنا بجا ہےبھلا کس لیے بھوک کی موت مرتے ہوئے لوگ،

دنیا میں موجود ان نعمتوں کو مقدر میں لکھوا کے لاتے نہیں؟خودکشی جن کو آسان لگتی ہو

اور زندگی کی مسافت کٹھناور سنا ہے مقدر تو خود اپنی مرضی کا لکھا ہوا ہو تو سکتا نہیں

ایسا ہوتا اگرتو مری ساحرہ!

ہر کوئی کائناتوں کی تقسیم کو لا پٹختا زمیں پریہ انساں قیامت کا خود غرض اور لالچی۔

بھوک بھی تو عذابوں کی اقسام میں سے کوئی قسم ہےاور عذاب آئیں تو

آسماں سے اترتی بلائیں یہ کب دیکھتی ہیں کہ کس کاجنم اپنی مرضی مطابق ہوا

میں نے سڑکوں پہلاھور کی اور گجرات کی،

کتنی سڑکوں کے فٹ پاتھ پرنیم جاں، ادھ مرے اور ہڈوں کا مجسمہ بنے

لاکھ ننگے بدن رینگتے جب بھی دیکھےتو ایسا لگا

جیسے مجھ پر وہی بھوک کا سا عذاب آ گیا ہوبھلا ایسے لوگوں کو کیسی تسلی،

بھلا کیا دلاسہ؟اور ان کے وہ دھولوں اٹے جسم کی قدر و قیمت بھی کیا؟

یہ جنم بھی،مری ساحرہ!

جس طرح سے عذابوں کی اقسام میں سے کوئی قسم ہو۔۔

— زین شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں