4 اشعار

جو دل نے کہی لب پہ کہاں آئی ہے دیکھو

Jo dil ne kahi lab pe kahan aayi hai dekho

جو دل نے کہی لب پہ کہاں آئی ہے دیکھو

«جو دل نے کہی لب پہ کہاں آئی ہے دیکھو» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ» میں 23 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 31 سیکنڈ ہے۔

جو دل نے کہی لب پہ کہاں آئی ہے دیکھواب محفل یاراں میں بھی تنہائی ہے دیکھو

پھولوں سے ہوا بھی کبھی گھبرائی ہے دیکھوغنچوں سے بھی شبنم کبھی کترائی ہے دیکھو

اب ذوق طلب وجہ جنوں ٹھیر گیا ہےاور عرض وفا باعث رسوائی ہے دیکھو

غم اپنے ہی اشکوں کا خریدار ہوا ہےدل اپنی ہی حالت کا تماشائی ہے دیکھو

— زہرا نگاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں