5 اشعار

بھولی بسری یادوں کو لپٹائے ہوئے ہوں

Bhoole bisri yaadon ko liptaye hue hoon

بھولی بسری یادوں کو لپٹائے ہوئے ہوں

«بھولی بسری یادوں کو لپٹائے ہوئے ہوں» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ» میں 23 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

بھولی بسری یادوں کو لپٹائے ہوئے ہوںٹوٹا جال سمندر پر پھیلائے ہوئے ہوں

وحشت کرنے سے بھی دل بیزار ہوا ہےدشت و سمندر آنچل میں سمٹائے ہوئے ہوں

وہ خوشبو بن کر آئے تو بے شک آئےمیں بھی دست صبا سے ہاتھ ملائے ہوئے ہوں

ٹوٹے پھوٹے لفظوں کے کچھ رنگ گھلے تھےان کی مہندی آج تلک بھی رچائے ہوئے ہوں

جن باتوں کو سننا تک بار خاطر تھاآج انہیں باتوں سے دل بہلائے ہوئے ہوں

— زہرا نگاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں