بھولی بسری یادوں کو لپٹائے ہوئے ہوں
کلام: زہرا نگاہ
بھولی بسری یادوں کو لپٹائے ہوئے ہوںٹوٹا جال سمندر پر پھیلائے ہوئے ہوں
وحشت کرنے سے بھی دل بیزار ہوا ہےدشت و سمندر آنچل میں سمٹائے ہوئے ہوں
کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ
مہمان شاعر: زہرا نگاہ
بھولی بسری یادوں کو لپٹائے ہوئے ہوںٹوٹا جال سمندر پر پھیلائے ہوئے ہوں
وحشت کرنے سے بھی دل بیزار ہوا ہےدشت و سمندر آنچل میں سمٹائے ہوئے ہوں
بیٹھے بیٹھے کیسا دل گھبرا جاتا ہےجانے والوں کا جانا یاد آ جاتا ہے
بات چیت میں جس کی روانی مثل ہوئیایک نام لیتے میں کچھ رک سا جاتا ہے