6 اشعار

رستے سے محافظ کا خطرہ جو نکل جاتا

Raste se muhafiz ka khatra jo nikal jaata

رستے سے محافظ کا خطرہ جو نکل جاتا

«رستے سے محافظ کا خطرہ جو نکل جاتا» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ» میں 23 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

رستے سے محافظ کا خطرہ جو نکل جاتامنزل پہ بھی آ جاتے نقشہ بھی بدل جاتا

اس جھوٹ کی دلدل سے باہر بھی نکل آتےدنیا میں بھی سر اٹھتا اور گھر بھی سنبھل جاتا

ہنستے ہوئے بوڑھوں کو قصے کئی یاد آتےروتے ہوئے بچوں کا رونا بھی بہل جاتا

کیوں اپنے پہاڑوں کے سینوں کو جلاتے ہمخطرہ تو محبت کے اک پھول سے ٹل جاتا

اس شہر کو راس آئی ہم جیسوں کی گم نامیہم نام بتاتے تو یہ شہر بھی جل جاتا

وہ ساتھ نہ دیتا تو وہ داد نہ دیتا تویہ لکھنے لکھانے کا جو بھی ہے خلل جاتا

— زہرا نگاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں