9 اشعار

سنا ہے

Suna Hai

سنا ہے

«سنا ہے» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ» میں 23 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہےسنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وو حملہ نہیں کرتا

درختوں کی گھنی چھاؤں میں جا کر لیٹ جاتا ہےہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں

تو مینا اپنے بچے چھوڑ کرکوے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہے

سنا ہے گھونسلے سے کوئی بچہ گر پڑے تو سارا جنگل جاگ جاتا ہےسنا ہے جب کسی ندی کے پانی میں

بئے کے گھونسلے کا گندمی سایہ لرزتا ہےتو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسن مان لیتی ہیں

کبھی طوفان آ جائے، کوئی پل ٹوٹ جائے توکسی لکڑی کے تختے پر

گلہری، سانپ، بکری اور چیتا ساتھ ہوتے ہیںسنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے

خداوندا! جلیل واماں معتبر! دانا واماں بینا منصف واماں اکبر!مرے اس شہر میں اب جنگلوں ہی کا کوئی قانون نافذ کر!

کوئی دستور نافذ کر

— زہرا نگاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں