زہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے
کلام: زہرا نگاہ
زہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہےحالانکہ در ایں اثنا کیا کچھ نہیں دیکھا ہے
پر لکھے تو کیا لکھے؟ اور سوچے تو کیا سوچے؟کچھ فکر بھی مبہم ہے کچھ ہاتھ لرزتا ہے
کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ
مہمان شاعر: زہرا نگاہ
زہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہےحالانکہ در ایں اثنا کیا کچھ نہیں دیکھا ہے
پر لکھے تو کیا لکھے؟ اور سوچے تو کیا سوچے؟کچھ فکر بھی مبہم ہے کچھ ہاتھ لرزتا ہے
جو دل نے کہی لب پہ کہاں آئی ہے دیکھواب محفل یاراں میں بھی تنہائی ہے دیکھو
پھولوں سے ہوا بھی کبھی گھبرائی ہے دیکھوغنچوں سے بھی شبنم کبھی کترائی ہے دیکھو