6 اشعار

کہاں گئے مرے دلدار و غمگسار سے لوگ

Kahan Gaye Mere Dildar o Ghamgusar Se Log

کہاں گئے مرے دلدار و غمگسار سے لوگ

«کہاں گئے مرے دلدار و غمگسار سے لوگ» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے حماد ابراہیم نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ» میں 23 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

کہاں گئے مرے دلدار و غمگسار سے لوگوہ دلبرانِ زمیں، وہ فلک شعار سے لوگ

وہ موسموں کی صفت سب کو باعثِ تسکیںوہ مہر و مہ کی طرح سب پہ آشکار سے لوگ

ہر آفتاب سے کرنیں سمیٹ لیتے ہیںہمارے شہر پہ چھائے ہوئے غبار سے لوگ

ہم ایسے سادہ دلوں کی کہیں پہ جا ہی نہیںچہار سمت سے اُمڈے ہیں ہوشیار سے لوگ

لہو لہو ہوں جب آنکھیں تو کیسا وعدۂ دیدچلے گئے ہیں، سرِ شام کوئے یار سے لوگ

نسیمِ صبح کے جھونکے ہمیں بھی چھو کے گزرہمیں بھی یاد ہیں کچھ موسمِ بہار سے لوگ

— زہرا نگاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں