اب اس گھر کی آبادی مہمانوں پر ہے
کلام: زہرا نگاہ
اب اس گھر کی آبادی مہمانوں پر ہےکوئی آ جائے تو وقت گزر جاتا ہے
کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ
مہمان شاعر: زہرا نگاہ
اب اس گھر کی آبادی مہمانوں پر ہےکوئی آ جائے تو وقت گزر جاتا ہے
کہاں گئے مرے دلدار و غمگسار سے لوگوہ دلبرانِ زمیں، وہ فلک شعار سے لوگ
وہ موسموں کی صفت سب کو باعثِ تسکیںوہ مہر و مہ کی طرح سب پہ آشکار سے لوگ