وہ جو اک شکل مرے چار طرف بکھری تھی
کلام: زہرا نگاہ
وہ جو اک شکل مرے چار طرف بکھری تھیمیں نے جب غور سے دیکھا تو مری اپنی تھی
پھر اسیروں پہ کسی خواب نے جادو ڈالارات کچھ حلقۂ زنجیر میں خاموشی تھی
کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ
مہمان شاعر: زہرا نگاہ
وہ جو اک شکل مرے چار طرف بکھری تھیمیں نے جب غور سے دیکھا تو مری اپنی تھی
پھر اسیروں پہ کسی خواب نے جادو ڈالارات کچھ حلقۂ زنجیر میں خاموشی تھی