غزل 7 اشعار

آج ہی محفل سرد پڑی ہے آج ہی درد فراواں ہے

Aaj hi mahfil sard padi hai aaj hi dard farawan hai

آج ہی محفل سرد پڑی ہے آج ہی درد فراواں ہےکوئی تو دل کی باتیں چھیڑو یارو محفل یاراں ہے

میرے ہر آدرش کا عالم اب تو عالم ویراں ہےدل میں تیری تمنا جیسے موج ریگ بیاباں ہے

پاؤں تھکن سے چور ہیں لیکن دل میں شعلۂ امکاں ہےمیرے لیے اک کرب مسلسل تیرا جمال گریزاں ہے

مجھ سے ملنے کے خواہاں ہو مل کر رونے سے حاصلپھر وہ آگ بھڑک اٹھے گی اب جو راکھ میں پنہاں ہے

عین خزاں میں ہوا نے شاید نام لیا ہے بہاروں کاٹہنی ٹہنی کانپ اٹھی ہے پتا پتا لرزاں ہے

آ تو گئے ہیں آنے والے کیسے استقبال کریںاب وہ آبادی سونی ہے اب وہ گھروندا ویراں ہے

تیرے دکھ کو پا کر ہم تو اپنا دکھ بھی بھول گئےکس کو خبر تھی تیری خموشی تہہ در تہہ اک طوفاں ہے

— ضیاء جالندھری