غزل 7 اشعار

خود کو سمجھا ہے فقط وہم و گماں بھی ہم نے

Khud ko samjha hai faqat wahm-o-guman bhi humne

خود کو سمجھا ہے فقط وہم و گماں بھی ہم نےخود کو پایا ہے دل کون و مکاں بھی ہم نے

دیکھ پھولوں سے لدے دھوپ نہائے ہوئے پیڑہنس کے کہتے ہیں گزاری ہے خزاں بھی ہم نے

شفق صبح سے تابندہ سمن زار سے پوچھرات کاٹی سوئے گردوں نگراں بھی ہم نے

دیکھ کر ابر بھر آئی ہیں خوشی سے آنکھیںسوکھتے ہونٹوں پہ پھیری ہے زباں بھی ہم نے

جن کے گیتوں میں ہے نکہت کی لپک پھول کا رسسالہا سال سنی ان کی فغاں بھی ہم نے

اب امنگیں ہیں ترنگیں ہیں ترنم افشاںخواہشیں دیکھیں ہیں محروم زباں بھی ہم نے

اب نظر آئے ہیں آسودۂ منزل تو کیادیکھی کیا کیا تپش ریگ رواں بھی ہم نے

— ضیاء جالندھری