غزل 9 اشعار

اپنے احوال پہ ہم آپ تھے حیراں بابا

Apne ahwal pe hum aap the hairan baba

اپنے احوال پہ ہم آپ تھے حیراں باباآنکھ دریا تھی مگر دل تھا بیاباں بابا

یہ وہ آنسو ہیں جو اندر کی طرف گرتے ہیںہوں بھی تو ہم نظر آتے نہیں گریاں بابا

اس قدر صدمہ ہے کیوں ایک دل ویراں پرشہر کے شہر یہاں ہو گئے ویراں بابا

یہ شب و روز کے ہنگاموں سے سہمے ہوئے لوگرہتے ہیں موج صبا سے بھی ہراساں بابا

اونچی دیواروں سے باہر نکل آئے تو کھلاہم نے سینوں میں بنا رکھے ہیں زنداں بابا

خوش گماں ہو کے نہ بیٹھ ان در و دیوار سے پوچھاہل خانہ بھی ہیں کچھ روز کے مہماں بابا

یخ ہواؤں سے مجھے آتی ہے خوشبوئے بہارشعلۂ گل کی امیں ہے یہ زمستاں بابا

گرد باد آئیں کہ گرداب، بیاباں ہو کہ بحرزندگی ہوتی ہے آپ اپنی نگہباں بابا

گئی رت لوٹ بھی آتی ہے ضیاؔ حوصلہ رکھہم نے دیکھی ہیں سیہ شاخوں پہ کلیاں بابا

— ضیاء جالندھری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں