نظم 14 اشعار

آنسو

Aansu

سنو، سنو، آنسوؤں کی آواز روح کو اپنے دکھتےہاتھوں سے چھو رہی ہے

خزاں زدہ خشک پتیاں ہیںجو سطح آب رواں پہ رک رک کے گر رہی ہیں

وہ سطح آب آئینہ ہے جس میںگزشتہ لمحوں کے ملگجے نقش ابھر رہے ہیں

ان آئینہ رنگ آنسوؤں میںہر آرزو ہر خیال ہر یاد ایک تصویر بے کسی ہے

شفق کے بجھتے الاؤ میں راکھ کی تہیں راکھ میں شرارےیہ کس کے آنسو ہیں کون چپ چاپ رو رہا ہے

اداس شب کی سیاہ آنکھوں میں ڈبڈباتے ہوئےستاروں سے میں نے پوچھا

مگر تعجب زدہ مجھے دیکھتے رہے وہہواؤں کی سسکیوں سے پوچھا

وہ اپنا دامن سمیٹ کر میرے پاس سے کپکپا کے چل دیںمگر یہ آنسو لہکتے لمحوں کے آئنے ہیں

ان آنسوؤں میںہر آرزو ہر خیال ہر یاد پھر سے آباد ہو گئی ہے

دمکتے آنسو یہ قمقمے جن سے شب کی تاریکیاں اجالےان آئینہ رنگ آنسوؤں سے نظر ملاؤ

مجھے نہ دیکھوکہ میری آنکھوں میں تو کوئی آئینہ نہیں ہے

سنو سنو آنسوؤں کی آواز سارے عالم پہ چھا رہی ہےمگر میں کب سے ترس رہا ہوں

کہ میری پتھرائی خشک آنکھوں سے بھی کچھ آنسوابھرتی لہروں کی طرح ابھریں

اور ان کی حدت میں ڈھل کے بہہ جائے میرے سینےکا درد سنگیں

— ضیاء جالندھری