نظم 19 اشعار

وقت کاتب ہے

Waqt katib hai

وقت کاتب ہے تو مسطر چہرےجب سے تحریر شناسی مری تقدیر ہوئی

وہ معانی پس الفاظ نظر آتے ہیںجن کو پہچان کے دل ڈرتا ہے

اور ہر چہرے سےایک ہی چہرہ ابھر آتا ہے

جو مرا چہرہ ہےاور امروز کا آئینہ یہ کہتا ہے کہ دیکھ

آدمی زادے تری عمر کی شام آ پہنچیسر پہ اب راکھ اتر آئی ہے

برف کنپٹیوں پرسالہا سال کے آلام سے چہرہ جیسے

ورق خستہ پہ پیچیدہ لکیروں کا ہجومحرف امید و رجا

داغ گریہ کی گرہ میں گم ہےنقش امنگوں کے تمناؤں کے

دکھ کے دھبوں نے دبا رکھے ہیںآج اک عمر کے آدرش کی تصویر جو دھندلائی ہے

اس کی تہمتمیری کم کوشی کے سر آئی ہے

میری خاموشی کے سر آئی ہےلفظ زنجیر ہوا

خوف درباں ہے تذبذب زنداںزندگی جبر مسلسل کے سبب

سرنگوں سایوں کا صحرائے سکوتاب خرابات میں خاکستر خواب

ڈھونڈھتی پھرتی ہے ہونے کا ثبوتوہ بھی تھے جو انہیں دشوار گزر گاہوں سے

مشعل حرف لیے پرچم ہمت تھامےاپنے خوابوں کے تعاقب میں رواں

بے خطر جاں سے گزر جاتے تھےمیں یہاں سرد سلاخوں سے لگا تکتا ہوں

اس بیاباں میں بھی کچھ خوابوں کے رسیا چہرےپرچم حرف لیے نکلے ہیں

ڈر رہا ہوں کہ اگر جاں سے نہ گزرےتو تذبذب کے سیہ زنداں میں

وہ مری طرح پشیماں ہوں گے

— ضیاء جالندھری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں