نظم 3 اشعار

دکھاوا

Dikhawa

شکستہ دیوار و در پہ سبزہ بہار کے راگ الاپتا ہےسیاہ درزوں میں گھاس کے زرد نیم جاں پھول ہنس رہے ہیں

میں اپنی ویراں خزاں زدہ زندگی سے بیگانہ ہو گیا ہوںتھرک رہی ہے فسردہ ہونٹوں پہ اک سکوں بار مسکراہٹ

جو مجھ کو مجھ سے چھپا رہی ہے میں ہنس رہا ہوں میں کھو گیا ہوںکسی کو ہموار سطح کی تہہ میں تند لہروں کا کیا پتا ہے

— ضیاء جالندھری