غزل 6 اشعار

اب یہ آنکھیں کسی تسکین سے تابندہ نہیں

Ab ye aankhen kisi taskin se tabinda nahin

اب یہ آنکھیں کسی تسکین سے تابندہ نہیںمیں نے رفتہ سے یہ جانا ہے کہ آئندہ نہیں

تیرے دل میں کوئی غم میرا نمائندہ نہیںآگہی تیری مژہ پر ابھی رخشندہ نہیں

دل ویراں دم عیسیٰ ہے گئے وقت کی یادکون سا لمحۂ رفتہ ہے کہ پھر زندہ نہیں

تو بھی چاہے تو نہ آئے گی وہ بیتی ہوئی راتہے وہی چاند مگر ویسا درخشندہ نہیں

ابر آوارہ سے مجھ کو ہے وفا کی امیدبرق بے تاب سے شکوہ ہے کہ پائندہ نہیں

کبھی غنچے کو مہکنے سے کوئی روک سکاشوق اگر ہے تو پھر اظہار سے شرمندہ نہیں

— ضیاء جالندھری