غزل 8 اشعار

گماں تھا یا تری خوشبو یقین اب بھی نہیں

Guman tha ya teri khushbu yaqin ab bhi nahin

گماں تھا یا تری خوشبو یقین اب بھی نہیںنہیں ہوا پہ بھروسہ تو کچھ عجب بھی نہیں

کھلیں تو کیسے کھلیں پھول اجاڑ صحرا میںسحاب خواب نہیں گریۂ طلب بھی نہیں

ہنسی میں چھپ نہ سکی آنسوؤں سے دھل نہ سکیعجب اداسی ہے جس کا کوئی سبب بھی نہیں

ٹھہر گیا ہے مرے دل میں اک زمانے سےوہ وقت جس کی سحر بھی نہیں ہے شب بھی نہیں

تمام عمر ترے التفات کو ترساوہ شخص جو ہدف ناوک غضب بھی نہیں

گلا کرو تو وہ کہتے ہیں یوں رہو جیسےتمہارے چہروں پہ آنکھیں نہیں ہیں لب بھی نہیں

مفاہمت نہ کر ارزاں نہ ہو بھرم نہ گنواہر اک نفس ہو اگر اک صلیب تب بھی نہیں

برا نہ مان ضیاؔ اس کی صاف گوئی کاجو درد مند بھی ہے اور بے ادب بھی نہیں

— ضیاء جالندھری