غزل 6 اشعار

اے دل نشیں تلاش تری کو بہ کو نہ تھی

Ai dil-nashin talash teri ku-ba-ku na thi

اے دل نشیں تلاش تری کو بہ کو نہ تھیاپنے سے اک فرار تھا وہ جستجو نہ تھی

اظہار نارسا سہی وہ صورت جمالآئینۂ خیال میں بھی ہو بہو نہ تھی

کیا سحر تھا کہ ہنستے ہوئے جان دے گئےوہ بھی کہ جن کو تاب غم آرزو نہ تھی

کیا جانے اہل بزم نے کیا کیا سمجھ لیااخفائے آرزو تھی وہ چپ گفتگو نہ تھی

وہ کون سی سحر تھی کہ روئی نہ پھول پھولوہ شام کون سی تھی کہ غم سے لہو نہ تھی

ہم تو فریفتہ تھے ضیاؔ دل کی آنچ پرمنظور محض دل کشیٔ رنگ و بو نہ تھی

— ضیاء جالندھری