نظم 16 اشعار

ادھوری

Adhuri

نخل نمو کی شاخ پہ جس دمنم کی آنچ کی سرشاری میں

پنکھ اپنے پھیلا کر غنچہپوری تاب سے کھل اٹھتا ہے

رنگ اور خوشبو کی بانی میںذات و حیات کے کتنے نکتے

پورے وجود سے کہہ دیتا ہےیہ نہیں جانتا کیسے کیسے

رت کے بھید ہوا کے تیورپھر بھی ان کہے رہ جاتے ہیں

دیکھتے دیکھتے رنگ اور خوشبوآپ ہی مدھم ہو جاتے ہیں

پوری بات کہی نہیں جاتیبات ادھوری رہ جاتی ہے

رستے ختم کبھی نہیں ہوتےرستوں کے آگے رستے ہیں

آرزوؤں اندیشوں جیسےرستوں میں رستے الجھے ہیں

ان رستوں کے راہی سارےتھک تھک راہ میں رہ جاتے ہیں

رستے ختم کبھی نہیں ہوتےباتوں کے پیچھے باتیں ہیں

چہرے صاف نظر نہیں آتےچہرے چلمن بن جاتے ہیں

چہروں کے پیچھے چہرے ہیںچہرے مدھم ہو جاتے ہیں

منظر مبہم ہو جاتے ہیںدید نصیب کسے ہوتی ہے

دل میں دوری رہ جاتی ہےپوری بات کہے کیا کوئی

پوری بات کہی ہے کس نےبات ادھوری رہ جاتی ہے

— ضیاء جالندھری