نظم 11 اشعار

ہابیل

Habil

اولیں ذائقۂ خوں سے تھی لب تلخ وہ خاکجس پہ میں ٹوٹی ہوئی شاخ کے مانند گرا

کن شراروں کی دہک دیدۂ قابیل میں تھیوہ حسد تھا کہ ہوس طیش کہ نفرت کیا تھا

اور پھر میرے بدن میرے لہو میں اترااولیں بے بسیٔ کرب فنا کا ادراک

بجھ گئی شمع نظر مٹ گئے آواز کے نقشبوئے گل، جوئے صبا، نجم سحر کچھ نہ رہا

لرزش موج تنفس کے کرشمے تھے تمامروئے جاناں غم جاں دیدۂ تر کچھ نہ رہا

نسل در نسل یوں ہی میرے لہو کا پیاسانار نمرود بھی وہ نخوت فرعون بھی وہ

جام زہراب بھی وہ تیشہ بھی وہ دار بھی وہخنجر شمر بھی وہ ترکش چنگیز بھی وہ

ایشیا میں کبھی افریقہ میں خوں ریز بھی وہاور قابیل سے ارشاد کیا تھا تو نے

خون ہابیل کی ان ذروں سے بو آتی ہےپھیل کر اب وہی بو سارے جہاں پر ہے محیط

کیا یہ بو تا بہ ابد میرا مقدر ہوگیکیا ترے اذن سے قابیل کی خو قائم ہے

کیا یہ خو تا بہ ابد میرا مقدر ہوگی

— ضیاء جالندھری