نظم 3 اشعار

پیغام

Paigham

اب کہ اک عمر کی محرومی سےدل نے سمجھوتہ سا کر رکھا تھا

اب کہ اس رت میں کسی پیڑ پہ پتا تھا نہ پھولاب کے ہر طرح کے دکھ کے لیے تیار تھا دل

کس لیے سوکھی ہوئی شاخ پہ یہ شعلہ سی کونپل پھوٹیکس لیے تیرا یہ پیغام آیا

— ضیاء جالندھری