غزل 9 اشعار

عجب کشاکش بیم و رجا ہے تنہائی

Ajab kashakash-e-bim-o-raja hai tanhai

عجب کشاکش بیم و رجا ہے تنہائیترے بغیر ترا سامنا ہے تنہائی

نئے دنوں کی صلیبیں گئے دنوں کے مزارعذاب خود سے ملاقات کا ہے تنہائی

فضا میں ہیں کسی طوفان تند کے آثارسفر طویل ہے اور راستا ہے تنہائی

بہت اداس ہے دل دوستوں کی محفل میںہر ایک آنکھ میں چہرہ نما ہے تنہائی

شگفتہ پھولوں کا گلدستہ صحبت یاراںبکھرتے پتوں کا اک ڈھیر سا ہے تنہائی

میں آفتاب کو کیسے دکھاؤں تاریکیتجھے میں کیسے بتاؤں کہ کیا ہے تنہائی

عجب سکون تھا شب آنسوؤں کی بارش میںوہ غم گسار وہ درد آشنا ہے تنہائی

وہ خواب کیا تھا کہ جس کی حیات ہے تعبیروہ جرم کیا تھا کہ جس کی سزا ہے تنہائی

نہیں ملے تھے تو تنہائی کس قدر تھی ضیاؔوہ مل کے بچھڑے تو اس سے سوا ہے تنہائی

— ضیاء جالندھری