غزل 6 اشعار

افتاد طبیعت سے اس حال کو ہم پہنچے

Uftad tabiat se is haal ko hum pahunche

افتاد طبیعت سے اس حال کو ہم پہنچےشدت کی محبت میں شدت ہی کے غم پہنچے

احوال بتائیں کیا رستے کی سنائیں کیابا حالت زار آئے بادیدۂ نم پہنچے

جس چہرے کو دیکھا وہ آئینۂ دوری تھادیوار کی صورت تھا جس در پہ قدم پہنچے

کچھ لب پہ کچھ آنکھوں میں لے آئے سجا کر ہمجو رنج کہ ہاتھ آئے جو غم کہ بہم پہنچے

قطع سر شاخ نرم آغاز نموئے نوصدمے مری چاہت کو پہنچے تو پہ کم پہنچے

وہ شاخ بنے سنورے وہ شاخ پھلے پھولےجس شاخ پہ دھوپ آئے جس شاخ کو نم پہنچے

— ضیاء جالندھری