غزل 4 اشعار

سوز دل بھی نہیں سکوں بھی ہے

Soz-e-dil bhi nahin sukun bhi hai

سوز دل بھی نہیں سکوں بھی ہےزندگانی وبال یوں بھی ہے

تری خواہش اور اس قدر خواہشوجہ حاصل سہی جنوں بھی ہے

خوش بھی ہے التفات دوست سے دلغیرت عشق سرنگوں بھی ہے

جل کے بجھ بھی گئی ضیاؔ اکثرآگ سینے میں جوں کی توں بھی ہے

— ضیاء جالندھری