غزل 6 اشعار

خون کے دریا بہہ جاتے ہیں خیر اور خیر کے بیچ

Khun ke dariya bah jate hain khair aur khair ke bich

خون کے دریا بہہ جاتے ہیں خیر اور خیر کے بیچاپنے آپ میں سب سچے ہیں مسجد و دیر کے بیچ

لاگ ہو یا کہ لگن ہو دونوں ایک دیے کی لویںایک ہی روشنی لہراتی ہے پیار اور بیر کے بیچ

دل میں دھوپ کھلے تو اندھیرے چھٹ جاتے ہیں آپاب ہم فرق روا نہیں رکھتے یار اور غیر کے بیچ

سوچ سمجھ سب سچ ہے لیکن دل کی بات ہے اوردور تھی یوں تو آنکھ بھنور کی پہنچا تیر کے بیچ

جاتے ہو پہ قدم اٹھنے سے پہلے دھیان رہےعمر کا فاصلہ ہو سکتا ہے پیر اور پیر کے بیچ

دیکھتی آنکھ ضیاؔ حیراں ہے دیکھ کے دہر کے رنگپل کی پل میں بدل جاتے ہیں منظر سیر کے بیچ

— ضیاء جالندھری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں