نظم 25 اشعار

بڑا شہر

Bada shahr

کراچی کسی دیو قد کیکڑے کی طرحسمندر کے ساحل پہ پاؤں پسارے پڑا ہے

نسیں اس کی فولاد و آہنبدن ریت سیمنٹ پتھر

بسیں ٹیکسیاں کاریں رکشا رگوں میں لہو کی بجائے رواںجسم پر جا بجا داغ دلدل نما

جہاں عنکبوت اپنے تاروں سے بنتے ہیں بنکوں کے جالکہ ان میں شمال اور مشرق سے آئے ہوئے

اشتہا اور خوابوں کے مارے مگسپھڑپھڑاتے رہیں

مستقل عالم جاں کنی میں رہیںشام ہوتے ہی اس کی نم آلود اور کھردری کھال سے

اس کے بے ڈھنگ اعضا سےعشوہ فروشوں کے پیراہنوں کی طرح

روشنی پھوٹتی ہےیہ وہ شہر خود مطمئن ہے

جو اپنے ہی دل کی شقاوت پہ شیدا رہامیں چاہت کے پھولوں بھرے جنگلوں سے جب آیا

تو اس شہر کی پیٹھمجلس کی دیوار کی طرح میری طرف تھی

میں شدت کی تنہائی میںآشنا حرف کا آرزو مند

پیہم تغافل سے رنجیدہ بے دلیہاں کے رسوم اور آداب سے بے خبر

ناخنوں سے زمین کھود کرآنسوؤں کی نمی سے اسے سینچ کر

حرف کلیوں کی امید میںدرد بولتا رہا

کئی بار میں نے سمندر کی بھیگی ہواؤں سے پوچھاکہ اے خوش نفس رہروو

تم اس طرح بیگانہ وش کیوں گزرتی ہوپل بھر رکو

کوئی تسکیں کا پیغام دواور اپنا یہ امرت سا ہاتھ

دکھے دل پہ رکھ دوپہ وہ شہر کی سانس میں

انجنوں کے دھوئیں کی کثافت سے افسردہآنکھیں چرائے گزرتی رہیں

کئی بار یوں بھی ہوا ہےکہ میں اور یہ شہر اک مشترک دکھ کی زنجیر میں بندھ گئے

اور مجھے یہ گماں سا ہواکہ اب اجنبیت کی دیوار گرنے کو ہے

ابھی اس کی نمناک آنکھیں کہیں گی کہ ہم ایک ہیںلمحۂ درد کا ساتھ سب سے بڑا ساتھ ہے

مگر میں نے دیکھا کہ اس وقت بھیاس کی پتھرائی آنکھوں میں

عکس شناسائی ناپید تھااور اب جب میں اس شہر سے جا رہا ہوں

تو اس کی درانتی سی بانہوں کے دندانےمیرے رگ و پے میں اترے ہوئے ہیں

— ضیاء جالندھری