نظم 12 اشعار

تنہا

Tanha

اک شاخ سے پتا ٹوٹ گرااور تو نے ٹھنڈی آہ بھری

اک شاخ پہ کھلتا شگوفہ تھاتو اس سے بھی بیزار سی تھی

تو اپنے خیال کے کہرے میںلپٹی ہوئی گم سم بیٹھی تھی

تو پاس تھی اور میں تنہا تھامیرے دل میں تیرا غم تھا

تیرے دل میں جانے کس کاہم دونوں پاس تھے اور اتنے

انجان ہوا کا ہر جھونکااک ساتھ ہی ہم سے کہتا تھا

''اے راہ عشق کے گمراہوتم دونوں کتنے تنہا ہو''

لیکن یہ اسے معلوم نہ تھاہم ایک تھے ایک تھے ہم دونوں

ہم ایک ہی دکھ کے مارے تھےدونوں کے دھڑکتے سینوں میں

صرف ایک ہی درد سلگتا تھالیکن یہ اسے معلوم نہ تھا

کہتا رہا وہ تو یہی ہم سے''اے راہ عشق کے گمراہو

تم دونوں کتنے تنہا ہو''

— ضیاء جالندھری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں