غزل 7 اشعار

چاند ہی نکلا نہ بادل ہی چھما چھم برسا

Chand hi nikla na baadal hi chhama-chham barsa

چاند ہی نکلا نہ بادل ہی چھما چھم برسارات دل پر غم دل صورت شبنم برسا

جلتی جاتی ہیں جڑیں سوکھتے جاتے ہیں شجرہو جو توفیق تو آنسو ہی کوئی دم برسا

میرے ارمان تھے برسات کے بادل کی طرحغنچے شاکی ہیں کہ یہ ابر بہت کم برسا

پے بہ پے آئے سجل تاروں کے مانند خیالمیری تنہائی پہ شب حسن جھما جھم برسا

کتنے ناپید اجالوں سے کیا ہے آبادوہ اندھیرا جو مری آنکھوں پہ پیہم برسا

سرد جھونکوں نے کہی سونی رتوں سے کیا باتکن تمناؤں کا خوں شاخوں سے تھم تھم برسا

قریہ قریہ تھی ضیاؔ حسرت آبادئ دلقریہ قریہ وہی ویرانی کا عالم برسا

— ضیاء جالندھری